| آزاد نظم |
| زندگی کے سفر پر میں تنہا چلا تھا مگر |
| راستے میں کئی اجنبی دوست بن کر ملے |
| زندگی کے سفر میں کئی موڑ آئے |
| کہیں پر پریشان حالی میں آ کر کسی اجنبی نے مرا ہاتھ تھاما |
| دلاسہ دیا |
| اجنبی ہو کے اپنوں سے بڑھ کر لگا |
| دوست ایسے بنے جیسے صدیوں سے ہوں آشنا |
| زندگی کے سفر میں کہیں میں نے دیکھا کوئی شخص لاچار ہے |
| بے سہارا پڑا زندگی ہی سے بیزار ہے |
| میں نے اس کی طرف ہاتھ اپنا کیا |
| میں سہارا بنا اس کو لے کر چلا |
| اس طرح کتنے لوگوں کو مجھ سے محبت ہوئی |
| دوستی دل لگی، ایک دوجے کی عادت لگی |
| ہاں مگر |
| یہ سفر زندگی کا کٹھن تھا بہت |
| جس طرح دوست آتے گئے زندگی میں، |
| اسی تیز رفتار سے وہ نکلتے گئے |
| کون کس موڑ پر |
| ہاتھ کو چھوڑ کر چل دیا |
| کیا پتا |
| وقت چلتا رہا دن گزرتے رہے |
| جس طرح لوگ آئے تھے چلتے بنے |
| یاد کے سائے ذہنوں سے چپکے رہے |
| مغفرت کی دعا آج ان کے لیے |
| میں دعا کے سوا کر بھی کیا پاؤں گا |
| کچھ سفر اور، پھر میں بھی مر جاؤں گا |
معلومات