بنا میں سوز تو سازینہ ہو گیا تھا وہ
مرے قریں شبِ آدینہ ہو گیا تھا وہ
کسی کا چہرہ مضامیں نئے سجھاتا تھا
ہر اک خیال کا گنجینہ ہو گیا تھا وہ
پھر اس کے واسطے ہونا پڑا مجھے پتھر
کسی کے واسطے آئینہ ہو گیا تھا وہ
وہ شخص مجھ سے تعلق پہ ہے پشیماں اب
مرے لیے کبھی پشمینہ ہو گیا تھا وہ
مجھے بلندی پہ لایا ہے آخرش مرا باپ
قدم قدم پہ قمرؔ زینہ ہو گیا تھا وہ
قمرآسیؔ

0
2