دکھ کے کنکر پڑے چنتا کیوں ہے
قبر میں رہ کے تو زندہ کیوں ہے
جب نہیں کوئی دوا زخموں کی
شہر میں تیرے مسیحا کیوں ہے
اے خدا شہر میں دو راہے ہیں
راستہ ہر یہاں الجھا کیوں ہے
دیکھ آباد گلی ہے دل کی
چاند لیکن ترا تنہا کیوں ہے
دیس بخشا ہے اگر اندھوں کا
خواب پھر آنکھ میں سپنا کیوں ہے
ہر طرف پہرا ہے وحشت کا تو
پھر محبت کا یہ جھگڑا کیوں ہے
اک ہتھیلی پہ سجا کے صحرا
پوچھتا ہے کہ تو پیاسا کیوں ہے
عمر بھر کون نبھائے رشتہ
درد پھر دل کا یہ اپنا کیوں ہے
عشق معشوق فریبی ہے جب
مجنوں جگ میں ترے لیلی کیوں ہے
مٹی ہو جائے گا تو بھی شاہد
پھر تکبر تجھے اتنا کیوں ہے

0
5