جو دل دو سریٰ کا درِ مصطفیٰ ہے
منور اسی سے دہر کی فضا ہے
محبانِ سرور رہیں شاد اس جا
سکوں کی یہ بستی بڑی خاص جا ہے
قطاروں میں دیکھیں ملائک کھڑے ہیں
یہاں مصطفیٰ کا قدم جو لگا ہے
سوالی سخی کے ہیں شاہوں کے داتا
غلامانِ جاناں پہ راضی خدا ہے
جہاں میں اُسی کو ملی بے نیازی
غنی جس کو کرتی نبی کی ثنا ہے
بنے جن کے سائل سلاطیں جہاں کے
شہنشاہ نوازے جو اُن کا گدا ہے
درود آئے اُن پر سدا کبریا سے
سلامی نبی کو دہر کی ادا ہے
فروزاں مدینہ نگینہ دہر کا
جو نورِ نبی سے درخشاں ہُوا ہے
ہے محمود راضی غلامی میں اُن کی
کہ فردوس اس کی درِ دلربا ہے

0
1
8
خلاصۂ کلام
اس نعت کے بنیادی مضامین یہ ہیں:
حضور اکرم ﷺ سے محبت اور عقیدت
مدینہ منورہ کی عظمت و فضیلت
روحانی دولت کی اہمیت
درود و سلام کی فضیلت
غلامیِ رسول ﷺ کو کامیابی اور جنت کا ذریعہ سمجھنا
ادبی اعتبار سے اس کلام میں محبتِ رسول ﷺ، مدینہ کی حاضری کی تڑپ، اور روحانی وابستگی کو نہایت خوبصورت اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔