جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں
کیسے کیسے شباب دیکھے ہیں
عمر گزری ہے ساری صحرا میں
تشنہ لب نے سراب دیکھے ہیں
آج تک جو کبھی نہیں برسے
آتے جاتے سحاب دیکھے ہیں
گھومتی جا رہی ہے دنیا سب
ایک سے آفتاب دیکھے ہیں
جیسے آغوش میں ستاروں کی
رات بھر ماہتاب دیکھے ہیں
دین سے واسطہ نہیں جن کو
وہ بھی پڑھتے کتاب دیکھے ہیں
خود کو وہ بے قصور کہتا ہے
جس نے اتنے عذاب دیکھے ہیں
فیصلے کا ملا ہے کس کو حق
کس نے کس کے حساب دیکھے ہیں
ظلم ہونے پہ ساری دنیا میں
کیا کہیں اضطراب دیکھے ہیں
زندگی جاں بہ لب ہوئی طارِق
دل میں کیا انقلاب دیکھے ہیں

0
11