ہر صحابی آئنہ ہے سیّدِ ابرارؐ کا
سب میں ہے جلوہ نمایاں آپؐ کے کردار کا
ڈنک مارا سانپ نے پر پاؤں کو جنبش نہ دی
عشق تھا معراج پر صدیقؓ یارِ غارؓ کا
خوف سے رستہ بدل لیتا تھا شیطانِ لعیں
رعب ایسا تھا عمرؓ فاروق کے کردار کا
ارضِ خیبر کانپ اٹھی تھی علیؓ کے خوف سے
آج بھی ہے دبدبہ اس حیدری تلوار کا
دہشتِ خالدؓ سے لرزاں تھے شہِ فارس و روم
آپؓ نے سر کاٹ ڈالا ہر چھپے غدار کا
میں کہاں اور رتبۂ اصحابِ پیغمبرؐ کہاں
میں تو اک ادنیٰ ہوں نوکر آپؐ کے ہر یار کا
دین کی بنیاد میں شامل ہے ان کا خوں تقیؔ
ہر صحابیؓ ہے محافظ دین کی دیوار کا

0
5