سچ سمجھ بیٹھی ہے دنیا ایک افسانہ مرا
پتھروں کی زد میں ہے اب آئنہ خانہ مرا
لے رہا ہے وقت مجھ سے جانے کیسا امتحاں
اک پری کو آ گیا ہے راس ویرانہ مرا
میرے ساقی سے روابط کچھ مثالی بھی نہیں
بن کہے بھرتا ہے پھر بھی روز پیمانہ مرا
وہ بلا ناغہ مجھے ملتا ہے اک تاریخ کو
باندھ رکھا ہے مقدر نے جو ماہانہ مرا
چشمِ نم کی اہمیت کھلتی ہے دل کی آنکھ پر
وسعتِ افلاک سے بڑھ کر ہے نذرانہ مرا
ایک ہی پیکر میں دو عالم سمائے ہیں مرے
حال درویشوں سا ہے ، انداز شاہانہ مرا
شہر میں بھی ہے دلِ آسیؔ کی وحشت اوج پر
دشت کا مرہونِ منت کب ہے دیوانہ مرا

0
2