| تین روزہ اجتماعِ پاک انگلستان میں |
| پھر سے دیکھیں گے بہاریں جو کہ تھِیں مُلتان میں |
| دیں مُبارک اجتماعِ پاک کی سُن کر خبر |
| جان جیسے آگئی ہو عاشقوں کی جان میں |
| گونج ہو گی ہر طرف صلے علیٰ کی بھائیو |
| کیا سُہانا ہو گا منظر اُس گھڑی میدان میں |
| خوب دیں گے اس کی دعوت رات دن اور صبح و شام |
| ہُوں گی کوچِز بُک سبھی یُوں آن کی ہی آن میں |
| مَیل عِصیاں کا دُھلے اور نیکیوں میں دِل جمے |
| رحمتوں کی چھم چھما چھم خوب اِس باران میں |
| دُنیا بھر سے آرہے ہیں قافلے یُوکے سُنو |
| علمِ دِیں اب سیکھنے کو باندھ لُوں سامان میں |
| ہُوں قُبول اپنی دُعائیں اجتماعِ پاک میں |
| دِل کے سارے کُھل کہ یُوں پُورے کروں ارمان میں |
| نفسِ لَوّامہ کی دعوت پر کہوں لبیک میں |
| نفس اَمّارہ کی کر لُوں یا خُدا پہچان میں |
| ہو دُعا زیرکؔ کے لب پر ہر گھڑی جاری یہی |
| مُرشِدی عطار کا پاتا رہوں فیضان میں |
معلومات