محنت مزدوری شیوہ میرا
روزی روٹی یہ نعرہ میرا
ہر دن تگ و دو لگی بھی رہتی
چاہے لو سردی جو بھی چلتی
بیوی بچوں کی فکر لاگے
ان کے سکھ کی لہر بھی جاگے
کیسی جو آگ سینہ میں ہے
زحمت سی ایک فتنہ میں ہے
چولھا جو جل نہ پا سکے تو
کس منہ سے گھر بھی جا سکے تو
سپنا دیکھے رہوں مگر میں
کوشش بھی اب کروں مگر میں
تھک جاؤں پر نہ ہار جاؤں
بازی بھی جان کی لگاؤں
کوئی ناصر بتائیں کیسے
دکھڑا غم کا سنائیں کیسے

0
52