ہے شامِ غریباں تو دن کربلا ہے
شہادت کا پیاروں کو رتبہ ملا ہے
نہیں مارتا اپنے محسن کو حیواں
مگر یاں مسیحا کی سولی سزا ہے
بتایا ہے انساں نے وحشت دکھا کر
یہ ہمدردِ انسانیت کی سزا ہے
وہی گولیوں کا بنا ہے نشانہ
کسی دردِ دل کا جو ساماں بنا ہے
ولایت سے لایا تھا خدمت کا جذبہ
جسے مذہبی بھوت نے کھا لیا ہے
امر ہو گیا اپنے کردار سے وہ
مسیحائی کا جاودانی صلہ ہے
فدا زندگی کردی راہے خدا میں
ترا نام تاریخ میں اب لکھا ہے
یہ اک جان کیا نسل بھی وار دیں گے
خدا سے محبت کا یہ سلسلہ ہے

0
3