تلاشِ رزق میں چہرہ یہاں نہیں ملتا
جو مل بھی جائے تو وہ مہرباں نہیں ملتا
عجیب خبط میں بستی کے لوگ رہتے ہیں
کوئی بھی اپنے ہی قد کا جواں نہیں ملتا
کوئی مسیح تو کوئی بتوں کا شیدائی
مگر کسی میں بھی اب انساں جو نہیں ملتا
بنا لیا ہے فصیلوں میں قید ہر دل کو
پرندے اڑتے ہیں لیکن سماں نہیں ملتا
وہ پیاس ایسی کہ دریا بھی اب سراب لگے
بھٹکتے پھرتے ہیں پر کارواں نہیں ملتا
ہزاروں چاند ستارے ہیں میری مٹھی میں
انہیں تو ٹوٹا ہوا آشیاں نہیں ملتا
کسی کو حرص وفا نے گنوا دیا عادل
کسی کو عشق میں بھی آسماں نہیں ملتا

0
3