حاکم وقت کی اک روز کی تقریر ہے یہ
جو دکھائی گئی جنتا کو وہ تصویر ہے یہ
کارنامے سبھی اور ساری کہانی سنیے
حاکم وقت سے خود اس کی زبانی سنیے
میری سرکار کی جب سے یہاں رکھوالی ہے
ہر طرف امن ہے خوشحالی ہی خوشحالی ہے
فتنے سب ختم ہوئے گنگ و جمن کے اندر
مل کے اب رہتے ہیں سب لوگ وطن کے اندر
خوشیاں ہم لائے ہر ایک سمت ہی آبادی میں
ہم نے تبدیل کیا صحرا بھی شادابی میں
بارشوں والی سبھی کالی گھٹائیں لے کر
ہم ہی آئے ہیں یہاں ٹھنڈی ہوائیں لے کر
اب نہیں باقی کسی سمت بھی غربت دیکھو
کر رہی خوب ترقی ہے معیشت دیکھو
اب نہیں باقی رہا دیر و حرم کا جھگڑا
ختم ہم نے ہی کیا سارا دھرم کا جھگڑا
اب تو دنگوں کا فسادوں کا کہیں نام نہیں
موبلنچنگ کا بھی ہم پر کوئی الزام نہیں
بیٹیوں، بہنوں کی، ماؤں کی حفاظت کی ہے
اور جواں بچوں بزرگوں سے محبت کی ہے
کرشن کی دھرتی کو ہم ہی ہیں سجانے والے
ہیں ہمیں لوگ یہاں رام کو لانے والے
ہم کو سرکار نہیں لوگوں کی جاں پیاری ہے
اپنی تعمیر ہر اک اس لیے معیاری ہے
نہ کرپشن  ہے کہیں اور نہ گھوٹالا لوگو
سب کے جیون میں ہمیں سے ہے اجالا یاروں
ہم سے ہی ملک نے اے لوگوں ہے عظمت پائی
چین سے، پاک سے لڑنے کی ہے ہمت پائی
میڈیا ہو کہ عدالت سبھی آزاد ہیں اب
دست بستہ سبھی مجرم کریں فریاد ہیں اب
کر دیا ملک فسادات سے خالی ہم نے
ختم کر ڈالے سبھی گنڈے موالی ہم نے
کسی مجرم کو کیا ہم نے کبھی معاف نہیں
کوئی بتلا دے ملا اس کو ہے انصاف نہیں
اتنا پہلے کیا کبھی شاد ہوا ہے بھارت
ہم جب آئے ہیں تب آزاد ہوا ہے بھارت
اپنی عظمت کو کوئی پہلے کہاں مانتا تھا
نام بھی ہند کا دنیا میں کوئی جانتا تھا
جگ میں بھارت کو ہے پہچان دلائی ہم نے
کئی دیشوں کی تو رکوا دی لڑائی ہم نے
پوچھتا ہم سے ہے اور مشورہ کرتا جب ہے
کوئی بھی ملک جہاں فیصلہ لیتا تب ہے
یاد رکھو کہ یہ سرکار ہے جب تک باقی
رام کا راج بھی اے لوگوں ہیں تب تک باقی
آ نہ جانا کسی بہکاوے میں جذباتوں میں
دیش جائے نہ کبھی بھی یہ غلط ہاتھوں میں
سوچ لو خوب اگر دیش بچانا ہے تمہیں
میری سرکار ہی یاں پھر سے بنانا ہے تم
کرنے تقریر جب آتے ہیں سیاسی لیڈر
ایسے ہی جملے سناتے ہیں ہیں سیاسی لیڈر
جو بتاتے نہیں نیتا وہ حقیقت کیا ہے
ہم بتائیں گے تمہیں دیش کی حالت کیا ہے
دن بہت اچھے ہیں نیتاؤں کی تقریروں میں
کاغذی فائلوں سرکار کی تحریروں میں
پر ہے برعکس بہت اس کے زمینی حالت
دل دہل جائیں گے دیکھیں جو حقیقی حالت
اپنی سرکار یہاں جب سے بنائی تم نے
ملک میں لائی ہر ایک سمت تباہی تم نے
فتنہ پروردہ ہو تم لوگ چمن کے اندر
خوف پھیلاتے ہو ہر سمت وطن کے اندر
ملک کو ہندو مسلماں کی فضا دیتے ہو
آگ بھڑکاتے ہو پھر اور ہوا دیتے ہو
دن ہمارے یہ سیاہ رات بنانے والوں
دھرم کے جھگڑے فسادات بنانے والوں
جو بھی امید ترقی تھی وہ غارت کر دی
کیا سے کیا تم نے میرے دیش کی حالت کر دی
تیری سرکار کی جب سے یہاں رکھوالی ہے
ہر طرف فقر ہے غربت ہے زبوں حالی ہے
نفرتیں عوج پہ ہیں ظلم و ستم ہے ہر سو
تیری سرکار ہے تیرا ہی کرم ہے ہر سو
لب سچائی پہ حق گوئی پہ تالا دیکھا
جس طرف دیکھا گھٹالہ ہی گھٹالہ دیکھا
جس کو شادابی بتاتے تھے وہ صحرا نکلا
زخم دیکھا گیا تو اور بھی گہرا نکلا
عزتیں ماؤں کی بہنوں کی ہیں محفوظ کہاں
عہد طفلی ہو یا پیری ہے یاں ملحوظ کہاں
اچھے دن کے یہاں بس لوگوں کو سپنے آئے
دن حقیقت میں فقط آپ کے اچھے آئے
ہر حقیقت سے یہاں آنکھ چرائی تم نے
مفلسی دیش کی پردوں میں چھپائی تم نے
تم کو گر واقعی اس ملک سے الفت ہوتی
دھرم کے نام پہ تم سے نہ سیاست ہوتی
کسی قابل نہیں چھوڑی ہیں ہوائیں تم نے
زہرآلود بنا ڈالیں فضائیں تم نے    
سازش ملک میں ہر حال میں شامل تم ہو
تم ہو غدار وطن گاندھی کے قاتل تم ہو
دھرم کہتا نہیں جو کام کیا ہے تم نے
رام کے نام کو بدنام کیا ہے تم نے
کوئی حاکم نہیں محکوم ہو کٹھپتلی ہو
اہل ثروت کے ہی تالاب کی ایک مچھلی ہو
عظمت ہند کو پامال کیا ہے تم نے
دیش کا کیسا برا حال کیا ہے تم نے
رام سے کرشن سے ناموں پے سیاست کر کے
منتخب ہوتے ہو تم لوگ خیانت کر کے
پہلے سی کوئی روایت نہیں چھوڑی تم نے
میڈیا کیا ہے عدالت نہیں چھوڑی تم نے
کل تلک گنڈے موالی تھے جو اب صاحب ہیں
کچھ تو ہیں رکن حکومت یہاں کچھ نائب ہیں
حاکم وقت کی بس راہ ہمیں آنے والے
اٹھ گئے کتنے یاں آواز اٹھانے والے
خواب ہی خواب فقط خواب دکھانے والوں
جھوٹی امید پہ جنتا کو لبھانے والوں
رہ نہ پائے گی اب اور یہ جنتا ڈر کے
توڑ ڈالے گی سبھی تلسم یہ جادوگر کے
نظر آتے ہو بھلے آج ہمیں کھادی میں
ہو یقینا تمہیں اس ملک کی بربادی میں
سرحد ہند کی تم سے نہ حفاظت ہوگی
تم سے بس ہندو مسلماں کی سیاست ہوگی
ہم کو میداں میں بہرحال اب آنہ ہوگا
اپنے بھارت کو لٹیروں سے بچانا ہوگا

0
8