| محبت بانٹتے جاؤ، دعا ہر گام لے لینا |
| سفر میں کام آئے گی، یہی اِک نام لے لینا |
| انا کی بھیڑ میں تم سے مسافر چھوٹ جائیں گے |
| کسی کے پیار کا تم بھی کبھی پیغام لے لینا |
| بُرے وقتوں میں اپنی دست گیری کون کرتا ہے؟ |
| خدا کے واسطے سب کا ادب سے نام لے لینا |
| یہ دنیا ایک دریا ہے، یہاں طوفان آئیں گے |
| دعا کی ناؤ میں رہ کر کوئی آرام لے لینا |
| اگر آواز دینی ہو، ہمیں تم یاد کر لینا |
| ضرورت میں نہ کام آئے گا، یہ اوہام لے لینا |
| کبھی جو عاجزی سے اپنا دامن بھر لیا تم نے |
| پھر اس دنیا کی دولت کا کوئی انعام لے لینا |
| اگر اس راہِ الفت میں سکوں پانا جو چاہو تم |
| دعا کی چھاؤں میں رُک کر کوئی اک شام لے لینا |
معلومات