محبت بانٹتے جاؤ، دعا ہر گام لے لینا
سفر میں کام آئے گی، یہی اِک نام لے لینا
انا کی بھیڑ میں تم سے مسافر چھوٹ جائیں گے
کسی کے پیار کا تم بھی کبھی پیغام لے لینا
بُرے وقتوں میں اپنی دست گیری کون کرتا ہے؟
خدا کے واسطے سب کا ادب سے نام لے لینا
یہ دنیا ایک دریا ہے، یہاں طوفان آئیں گے
دعا کی ناؤ میں رہ کر کوئی آرام لے لینا
اگر آواز دینی ہو، ہمیں تم یاد کر لینا
ضرورت میں نہ کام آئے گا، یہ اوہام لے لینا
کبھی جو عاجزی سے اپنا دامن بھر لیا تم نے
پھر اس دنیا کی دولت کا کوئی انعام لے لینا
اگر اس راہِ الفت میں سکوں پانا جو چاہو تم
دعا کی چھاؤں میں رُک کر کوئی اک شام لے لینا

0
5