ہے یادِ نبی میں عجب ہی نظارہ
وہ ہادی وہ رہبر جہاں کا سہارا
بلاؤں کو ٹالیں وہ مشکل کشا ہیں
ملے جن کے در سے ہمیں ہر کنارہ
ہے تریاق ہر درد کا ذکر اُن کا
وہ محبوبِ داور ہے داتا ہمارا
کریں ناز نوری غلامی پہ اُن کی
یہ رتبہ خدا نے بنایا ہے نیارا
گواہی دیں دشمن بھی اُن کے کرم کی
ہے خُلقِ عظیم اُن کو رب نے پکارا
خدا کی ہیں رحمت وہ دنیا میں یکتا
اُنہوں نے مقدر دہر کا سنوارا
ہوئے تیرے محمود طالع درخشاں
ہوا ہے نبی سے کرم کا اشارہ

0
3