| "جتنے اِس عالَمِ اِمکاں میں پیمبر آئے" |
| شاہِ اِمکاںؐ کی مُحبت سے مُنور آئے |
| بزمِ اِمکاں میں حقیقت کی شناسائی کو |
| بزمِ واجب سے نبوت کے سکندر آئے |
| قوسِ اِمکاں میں یہ امکاں بھی نہیں ہے یکسر |
| ذاتِ عاقبؐ کا جہاں میں کوئی ہمسر آئے |
| شانِ لولاک کے صدقے سَبھی اِمکاں ممکن |
| ورنہ ممکن کو بھی اِمکاں نہ مُیسر آئے |
| میں نے بھیجا تھا انُہیں ایک سلامِ اُلفت |
| اُنؐ کے دامن سے مُحبت کے سُمندر آئے |
| آگیا اُنؐ کا تصور تو یقیں ہے مجھ کو |
| کہ مِرے خواب میں صورت وہ حَسیں تَر آئے |
| نعت سن کر یہ مِری، مُجھ سے کہیں گے آقاؐ |
| مُجھؐ تلک میرا غلام آئے، بَرابر آئے |
معلومات