اس شوقِ آگہی نے جو آشفتہ سر کیا
اب بے خبر کیا مجھے ہے بے ہنر کیا
جو منزلوں پہ منزلیں ہم طے تو کر گئے
پہنچے کہاں پہ ہم نے جو اتنا سفر کیا
یہ رہ گیا سوال بھی دنیا کے سامنے
کیا کھو گیا ہے پاس سے ہے کیا امر کیا
جو چل رہی تھی زیست کی کشتی ہوا کے رخ
تو پرسکوں سے پانیوں کو کیوں بھنور کیا
معنی اڑا کے لے گئی الفاظ سے ہوا
اب جانے اس ہوا نے یہ کیسا اثر کیا
دشوار راستوں پہ ہی چلنا ہے ناگزیر
ہے کس نے یہ سفر یہاں پر بے خطر کیا
ہے مل گیا ہے تجھ کو ہمایوں یہ مرتبہ
خود کو حقیقتوں سے ہے جو بہرہ ور کیا

0
7