غزل
حسن سے جب دُو بہ دُو ہونے لگی
زندگی کی جستجو ہونے لگی
التفاتِ یار کے ادراک پر
ہر نظر جام و سُبو ہونے لگی
گرچہ برَسوں سے نہیں تھا رابطہ
رَوز پہروں گفتگو ہونے لگی
دیر تک بیٹھیں ہو لمبی گفتگو
من میں پھر یہ آرزو ہونے لگی
رَوز اَفزوں ہے ہماری دوستی
“آپ سے تم ، تم سے تو ہونے لگی”
چوم لوں پرُ اَز تبسم لَب حسیں
دل ہی دل میں آرزو ہونے لگی
دیکھ کر بگڑے ہوئے تیور ترے
آرزو دل میں لہو ہونے لگی
آج کل کے پر گھٹن ماحول میں
آرزو کی آرزو ہونے لگی
پھاڑ ڈالا جوش وحشت نے اسے
جب گریباں کی رَفو ہونے لگی
موسمِ گُل پھر سے رخصت ہو گیا
پھر گریباں کی رفو ہونے لگی
چشمِ نم تو نے عبث رسوا کیا
آبرو بے آبرو ہونے لگی
زندگی جینا ہوا دشوار تر
صنعتوں میں جب نمو ہونے لگی
بڑھ گئی اتنی مشقت رات دِن
دو گھڑی کی آرزو ہونے لگی
آدمی فولاد میں ڈھلنے لگے
آہنی انساں کی خُو ہونے لگی
کار خانہ زندگی کا رک گیا
آئینوں سے گفتگو ہونے لگی
خوف میں جکڑی ہوئی انسانیت
ڈٹ گئی تو سرخرو ہونے لگی
جس قدر خوفِ خدا بڑھتا گیا
فکرِ انساں میں بھی ضُو ہونے لگی
خُوب کہتاہے شہاب احمد غزل
گفتگو یہ کو بکو ہونے لگی
شہاب احمد
۲۹ اپریل ۲۰۲۰
رمل مسدس محذوف
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن

0
35