| زیبا ہے حسن کو بھی، اُن کا جمال دیکھ |
| ہر حال میں ہیں رحمت، اُن کا جلال دیکھ |
| ہیں پیشوائے مرسل دلدارِ کبریا |
| قدرت نے اُن کو بخشے، کیسے یہ حال دیکھ |
| دلدار عرش پر ہیں ہے چار سو خوشی |
| سرکارِ دو سرا ہیں زندہ مثال دیکھ |
| حسن و جمالِ جاں ہے ہستی میں خوب تر |
| اُن کے حسیں خصائل، ہیں لا زوال دیکھ |
| روشن ہے یہ گلستاں آقا کے نور سے |
| تاروں کی تاب دیکھو، دل ہیں نہال دیکھ |
| خاکِ قدم سے جن کی شرمائے مہر بھی |
| الطافِ کبریا کے والا کمال دیکھ |
| زینت بنے جہاں کی، باغِ نبی کے گل |
| محمود جانِ ہستی، بی بی کے لال دیکھ |
معلومات