زیبا ہے حسن کو بھی، اُن کا جمال دیکھ
ہر حال میں ہیں رحمت، اُن کا جلال دیکھ
ہیں پیشوائے مرسل دلدارِ کبریا
قدرت نے اُن کو بخشے، کیسے یہ حال دیکھ
دلدار عرش پر ہیں ہے چار سو خوشی
سرکارِ دو سرا ہیں زندہ مثال دیکھ
حسن و جمالِ جاں ہے ہستی میں خوب تر
اُن کے حسیں خصائل، ہیں لا زوال دیکھ
روشن ہے یہ گلستاں آقا کے نور سے
تاروں کی تاب دیکھو، دل ہیں نہال دیکھ
خاکِ قدم سے جن کی شرمائے مہر بھی
الطافِ کبریا کے والا کمال دیکھ
زینت بنے جہاں کی، باغِ نبی کے گل
محمود جانِ ہستی، بی بی کے لال دیکھ

0
1
4
مرکزی خیال:
یہ نعتِ پاک حضور اکرم ﷺ کے بے مثل حسن و جمال، کائناتی مرتبے، لاجواب اخلاق اور عظمتِ اہل بیتِ اطہار کا ایک دلنشین مجموعہ ہے۔ شاعر نے ردیف "دیکھ" کا خوبصورت استعمال کرتے ہوئے قاری کو آقا ﷺ کی مادی اور روحانی کمالات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔اشعار کا خلاصہجمال اور جلال کا سنگم (شعر 1): نعت کے آغاز میں آقا ﷺ کے حسن و جمال کی تعریف کی گئی ہے کہ خود 'حسن' کو بھی آپ ﷺ کے چہرے سے زینت ملتی ہے۔ ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا جلال بھی سراپا رحمت ہے، کیونکہ آپ ﷺ 'رحمت اللعالمین' ہیں۔عظمتِ مصطفیٰ اور معراج (شعر 2 اور 3): حضور ﷺ تمام رسولوں کے امام اور اللہ تعالیٰ کے محبوبِ خاص ہیں۔ معراج کی رات جب آپ ﷺ عرشِ بریں پر تشریف فرما ہوئے، تو پوری کائنات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جو آپ ﷺ کے بلند ترین مرتبے کی زندہ مثال ہے۔بے عیب اخلاق (شعر 4): اس شعر میں آپ ﷺ کی سیرت اور پاکیزہ عادات کا ذکر ہے۔ کائنات میں آپ ﷺ کا وجود سب سے خوبصورت ہے اور آپ ﷺ کے حسیں خصائل (اخلاق) سدابہار اور لا زوال ہیں۔کائناتی نور اور عاجزی (شعر 5 اور 6): شاعر کائناتی استعاروں کا استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ دنیا حضور ﷺ کے نورِ مبارک سے روشن ایک باغ ہے۔ آسمان کے ستارے اسی نور سے چمک رہے ہیں اور مومنوں کے دل شاد ہیں۔ آپ ﷺ کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ آسمان کا چمکتا ہوا سورج بھی آپ ﷺ کے قدموں کی خاک کے سامنے شرماتا ہے۔اہلِ بیتِ اطہار کا تذکرہ / مقطع (شعر 7): نعت کے اختتام پر شاعر (محمود) باغِ نبوت کے پھولوں، یعنی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر (امام حسن و حسین علیہ السلام) کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کائنات کی تمام تر زینتیں بی بی کے انہی لالوں کے دم قدم سے ہیں۔

0