| ہجر کی بات سے دل کو مرے غمگین نہ کر |
| ایسی باتوں سے مرے پیار کی توہین نہ کر |
| گر شکایت ہے کوئی تو مجھے آکر کہہ دے |
| چپ نہ رہ قلب کے جذبات کی تدفین نہ کر |
| جا بہ جا تیری وفاؤں کے میں گاتا ہوں گیت |
| پیار مجھ ایک سے رکھ ایک کو دو تین نہ کر |
| گر محبت ہی نہیں تو مرے دل سے نہ کھیل |
| اس طرح میری محبت کی تو توہین نہ کر |
| بیٹھے رہتے ہیں وہاں جانِ جگر میرے رقیب |
| بزمِ رہؔبر میں بھلے جا اسے رنگین نہ کر |
معلومات