| غم ہے کوئی یا ہجر طاری ہے |
| دل میں کیسی یہ بے قراری ہے |
| مجھ سے پوچھو اذیتیں اس کی |
| عمر تنہائی میں گزاری ہے |
| دل تو پہلے سے ہی تمھارا تھا |
| زیست بھی آج سے تمھاری ہے |
| اپنی حِدّت سے ہم پگھلتے ہیں |
| جنگ خود سے ہی اب ہماری ہے |
| اجنبی بن گیا ہوں یارو! میں |
| جب سے اس مہ جبیں سے یاری ہے |
| لوگ بھی اس کے کان بھرتے ہیں |
| پھر طبیعت بھی انتشاری ہے |
| ایک وعدہ وفا نہیں کرتا |
| شخص اتنا وہ اعتباری ہے |
معلومات