زندگی مجھ کو کیا ملی ہوئی ہے
بے خطا اک سزا ملی ہوئی ہے
یونہی فضلِ خدا نہیں مجھ پر
یہ کسی کی دعا ملی ہوئی ہے
رنگ اپنا الگ ہے دنیا سے
ہمیں فطرت جدا ملی ہوئی ہے
ہم تو بے ذوق تھے نہیں شاہدؔ
بزم کیوں بے مزا ملی ہوئی ہے
عشق کرنے کے واسطے شاہدؔ
ایک ماہِ لقا ملی ہوئی ہے

0
3