کرم کی نظر ہو اے سرکارِ عالی
ہیں چوکھٹ پہ تیری یہ عاجز سوالی
شہا دو جہاں میں رواں ذکر تیرا
ملی شان تم کو خدا سے نرالی
جہانوں کی وسعت تہے گام تیرے
نہیں اور ہستی حسیں شان والی
کیا زندگی کو ہے آسان تو نے
ملی راہ تجھ سے ہے سیدھی مثالی
بنے تیری خاطر زمان و مکاں ہیں
ہے لولاک کہتی یہ یسرب کے والی
ورودِ نبی سے سجی ساری ہستی
مثالی ملی ہے جنہیں خوش خصالی
ہیں محمود داتا نبی اذنِ رب سے
یہی بات حق ہے نہیں یہ خیالی

1
2
جامع خلاصہ
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ عاجزی، عقیدت، محبت اور بارگاہِ نبوی ﷺ میں کرم و نظر کی التجا کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر خود کو حضورِ اکرم ﷺ کی چوکھٹ کا عاجز سوالی قرار دیتے ہوئے آپ ﷺ کی رحمت اور عنایت کا طلبگار ہے۔ نعت میں اس حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے کہ دو جہانوں میں آپ ﷺ کا ذکر جاری ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بے مثال شان و عظمت عطا فرمائی ہے۔

شاعر کے نزدیک آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس کی وسعتِ شان تمام جہانوں سے بلند ہے اور آپ ﷺ نے انسانیت کو زندگی گزارنے کا مثالی راستہ اور ہدایت کا روشن طریقہ عطا فرمایا۔ لولاک کے مفہوم کے ذریعے آپ ﷺ کی عظمت و رفعت کو بیان کیا گیا ہے، جبکہ ورودِ نبوی ﷺ سے پوری ہستی کے سنورنے اور حسن و خوش خُلقی کے نمایاں ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

آخر میں شاعر اپنے تخلص محمود کے ساتھ اس عقیدے کو نہایت پُراعتماد انداز میں بیان کرتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے عطا کردہ عظیم داتا و رحمت ہیں، اور آپ ﷺ کی عظمت و شان کا اعتراف محض خیال نہیں بلکہ حق اور ایمان کی حقیقت ہے۔

مرکزی پیغام:
یہ نعت حضورِ اکرم ﷺ کی عظمت، رحمت، ہدایت، بے مثال شان، ذکر کی عالمگیریت اور انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی مثالی رہنمائی کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، جبکہ شاعر اپنی عاجزی کے ساتھ بارگاہِ نبوی ﷺ سے کرم و نظر کا خواستگار ہے۔

0