| کرم کی نظر ہو اے سرکارِ عالی |
| ہیں چوکھٹ پہ تیری یہ عاجز سوالی |
| شہا دو جہاں میں رواں ذکر تیرا |
| ملی شان تم کو خدا سے نرالی |
| جہانوں کی وسعت تہے گام تیرے |
| نہیں اور ہستی حسیں شان والی |
| کیا زندگی کو ہے آسان تو نے |
| ملی راہ تجھ سے ہے سیدھی مثالی |
| بنے تیری خاطر زمان و مکاں ہیں |
| ہے لولاک کہتی یہ یسرب کے والی |
| ورودِ نبی سے سجی ساری ہستی |
| مثالی ملی ہے جنہیں خوش خصالی |
| ہیں محمود داتا نبی اذنِ رب سے |
| یہی بات حق ہے نہیں یہ خیالی |
معلومات