| وہ اپنی ذات سے ہر دم جدائی مانگتا کیوں ہے |
| جو خود سے بھاگتا ہے، آشنائی مانگتا کیوں ہے؟ |
| یہاں ہر شخص اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے |
| مگر اپنی ہی خواہش سے رہائی مانگتا کیوں ہے؟ |
| جسے معلوم ہے کوئی کسی کا ہو نہیں سکتا |
| وہ ہر اک اجنبی سے دل ربائی مانگتا کیوں ہے؟ |
| محبت کو اگر اپنی شکستِ ذات کہتا ہے |
| تو پھر اس ہار میں اپنی بھلائی مانگتا کیوں ہے؟ |
| اگر تنہائی ہی اس کے لیے تسکینِ خاطر ہے |
| جہاں جانا نہیں ہوتا، رسائی مانگتا کیوں ہے؟ |
| وہ جس نے عمر بھر بچوں کو چپ رہنا سکھایا تھا |
| وہ اب ان کی خموشی سے رہائی مانگتا کیوں ہے؟ |
| جو اپنے آپ سے بھی عمر بھر ملنے سے ڈرتا ہے |
| وہ اپنے حق میں پھر سب سے گواہی مانگتا کیوں ہے؟ |
| وہ اپنے جرم کو بھی اعترافِ حق سمجھتا ہے |
| تو پھر اپنے گناہوں کی صفائی مانگتا کیوں ہے؟ |
| اگر ہر شے فنا ہے اور یہ بھی جانتا ہے وہ |
| ہمیشہ کے لیے پھر وہ خدائی مانگتا کیوں ہے؟ |
معلومات