| مُیَسّر نہ ہوتا اگر مدنی ماحول تو غفلت کے ماروں کا کیا حال ہوتا |
| گُناہوں میں دِن رات اپنے گُزَرتے یُوں لاکھوں ہزاروں کا کیا حال ہوتا |
| بدی اور نیکی کی ہوتی نہ تفریق گناہوں سے توبہ کی مِلتی نہ توفیق |
| نہ دُھلتا ہمارا یہ اعمال نامہ تو عِصیاں شِعارُوں کا کیا حال ہوتا |
| نہ عشقِ نبی ہی نہ خوفِ خُدا بھی نہ آنکھوں میں ہوتی ذرا سی حیا بھی |
| اگر دِل ہمارے کبھی بھی نہ جُھکتے تو پھر دِل فِگارُوں کا کیا حال ہوتا |
| مُبَلّغ نہ بنتے نہ ہم درس دیتے عَمَل نیک کا ہم رِسالہ نہ بھرتے |
| سفر قافِلوں میں ہمارا نہ ہوتا تو پھر خارزارُوں کا کیا حال ہوتا |
| مدینہ مدینہ بھی ہم پھر نہ کہتے مدینے کے غم میں نہ آنسو یہ بہتے |
| زباں پر اگر اُن کی مدحت نہ ہوتی تو لفظوں کے دَھارُوں کا کیا حال ہوتا |
| خدا کا کرم ہے مِلا مدنی ماحول نبی کی عطا ہے مِلا مدنی ماحول |
| اگر ہم کو زیرکؔ نہ عطار مِلتے تو پھر خاک ساروں کا کیا حال ہوتا |
معلومات