ایک معروف ریستوراں کے آگے
کار روکی تو ایک دم جیسے
خوشبوؤں اور رنگوں کا
ایک سیلاب سا امڈ آیا
ریستوران میں حشر برپا ہے
اور باہر الگ ہجوم سا ہے
بھاگے آتے ہیں نوجواں ویٹر
جا بجا رنگ برنگے بنچوں پر
نوجوان ٹولیوں میں بیٹھے ہیں
اک نازک حسین دوشیزہ
آئینے میں اپنے چہرے کو
دیکھتی جا رہی ہے اترا کر
وقفے وقفے سے سلفیاں لے کر
بھیجتی جا رہی ہے پیاروں کو
گاڑیاں آ کہ رکتی جاتی ہیں
ساتھ والی ایک ہاول میں
نیم برہنہ بیٹی حوا کی
نا آشنا بدیسی لہجے میں
فون پر بولتے نجانے کیوں
ناز سے کھلکھلائے جاتی ہے
اور اپنے کسی پیارے کو
گالیاں دے کہ ہنستی جاتی ہے
اس کا ہم رکاب ساتھی بھی
بے نیازی سے اپنے آئی فون پر
انگلیاں اپنی گھسائے جاتا ہے
جانے کیا دیکھ دیکھ کر کب سے
زیر لب مسکرائے جاتا ہے
اور کچھ سال خوردہ انکل ہیں
جھکتے کاندھے سفید بال لئے
شارٹس اور شوخ شرٹوں سے
عمر کو مات کرنے کی خاطر
بالارادہ ہنستے جاتے ہیں
بے تکاں بولتے ہی جاتے ہیں
ایک لمحے کو ذہن چکرایا
یا الہی یہ کون سی جا ہے
کونسا شہر ہے محلہ ہے
لوگ یہ کس نگر سے آئے ہیں
ہیں یہیں کے مگر پرائے ہیں

0
12