| بڑھ کے تجھ سے کوئی خیال نہیں |
| جگ میں تیری کوئی مثال نہیں |
| تو مجسم ہے اپنے پیکر میں |
| ہے سراپا جسے زوال نہیں |
| کہتے ہیں دیکھ کے تجھے تارے |
| چاند بھی ایسا با جمال نہیں |
| دن کی چادر میں روشنی بھر دے |
| چاندنی میں بھی وہ کمال نہیں |
| منتظر ہے وصال کا لیکن |
| گل اٹھائے نظر مجال نہیں |
| زندگی یار کی امانت ہے |
| جان جائے اسے ملال نہیں |
| مانگ لیں تجھ سے تجھکو شاہد ہم |
| اس سے بہتر کوئی سوال نہیں |
معلومات