| کتنی وحشت زدہ یہ رات ہے تنہائی کی |
| بات چھیڑو ذرا اس حسن کی زیبائی کی |
| تیرے بیمار کو جاناں ہے ضرورت تیری |
| جی اٹھے گا جو ذرا تو نے مسیحائی کی |
| چھوڑ کر جا چکا لیکن ہے خیالوں میں بسا |
| آج بھی یاد بہت آتی ہے ہرجائی کی |
| کب یہ چاہا ہے کہ ہو ساتھ نصیبوں میں ترا |
| سامنے بس رہے تصویر یہ رعنائی کی |
| زندگی بھر کے لئے اپنا ملن ہو نہ سکا |
| ساتھ دو پل کا ہے دولت ترے شیدائی کی |
| دم بخود ہو کے رُخِ یار کو تکنا ہے فیض |
| کچھ ضرورت نہیں اب قُوّتِ گویائی کی |
معلومات