کتنی وحشت زدہ یہ رات ہے تنہائی کی
بات چھیڑو ذرا اس حسن کی زیبائی کی
تیرے بیمار کو جاناں ہے ضرورت تیری
جی اٹھے گا جو ذرا تو نے مسیحائی کی
چھوڑ کر جا چکا لیکن ہے خیالوں میں بسا
آج بھی یاد بہت آتی ہے ہرجائی کی
کب یہ چاہا ہے کہ ہو ساتھ نصیبوں میں ترا
سامنے بس رہے تصویر یہ رعنائی کی
زندگی بھر کے لئے اپنا ملن ہو نہ سکا
ساتھ دو پل کا ہے دولت ترے شیدائی کی
دم بخود ہو کے رُخِ یار کو تکنا ہے فیض
کچھ ضرورت نہیں اب قُوّتِ گویائی کی

0
8