پوری کروں ضرورتیں آدھی رقم سے میں
کوشش ضرور کرتا ہوں آسیؔ قسم سے میں
اپنی شکستگی کا بتاؤں سبب کسے
امید کے محل سے گرا ہوں دھڑم سے میں
میں آئنے سے ڈر گیا اور مجھ سے آئنہ
مجھ کو دیا دکھائی جونہی ایک دم سے میں
چلتا ہوں عاجزی سے یقیں کی زمین پر
جب سے نکل کے آیا ہوں وہمِ اہم سے میں
سب دوست ہاتھ جھاڑ کے اک سمت ہو گئے
آواز سب کو دیتا رہا دو قدم سے میں
وقت آزما رہا ہے محبت کے داؤ پیچ
آیا جب اس کے ہاتھ نہ دام و درم سے میں
کہہ دو اسے توجہ بڑھائے مری طرف
کیسے کروں گزارہ بھلا اتنی کم سے میں
اے چھوڑ جانے والے بہت خوش گماں نہ ہو
ہوتی ہے اب مراد مری لفظِ ہم سے میں
دنیا کی دی ہوئی نہیں طرزِ سخن مری
یہ پھول ساتھ لایا ہوں باغِ عدم سے میں
قمرآسیؔ

4