| کبھی سمجھا ہی نہیں وہ مری تنہائی کو |
| ناپتا کیسے وہ مرے درد کی گہرائی کو |
| شام ہونے کو ہے، منزل کا نشاں تک بھی نہیں |
| دل ترستا ہے کسی حرفِ شناسائی کو |
| ہم نے ہر زخم زمانے سے چھپا رکھا ہے |
| کون سمجھے گا بھلا درد کی رسوائی کو |
| وہ مرے ساتھ تو چلتا رہا کچھ دور مگر |
| چھوڑ آیا وہ مجھے اور مری تنہائی کو |
| دل نے ہر بار حقیقت سے گریزاں ہو کر |
| خواب سمجھا ترے لہجے کی پذیرائی کو |
| ہم بھی واقف تھے محبت کے خسارے سے مگر |
| کون روکے دلِ ناداں کے تمنائی کو |
| روشنی مانگنے نکلے تھے اندھیروں سے کبھی |
| اور ترستے رہے آخر اسی بینائی کو |
| عمر گزری ہے اسی ایک حقیقت کے قریب |
| لوگ دانائی سمجھ بیٹھے ہیں تنہائی کو |
| شاہدؔ اس شخص سے شکوہ بھی کریں تو کیسے |
| جس نے سمجھا ہی نہیں درد کی گہرائی کو |
معلومات