مجھ پر مرے مولا نے یہ احسان کیا ہے
ہر کام اسی نے مرا آسان کیا ہے
مجھ کو جو دیا ہے مری اوقات سے بڑھ کر
دشمن کو مرے، رب نے ہی حیران کیا ہے
میں اس کی رضا جان کے، ہر کرب سے گزرا
یوں شکر اسی کا پسِ زندان کیا ہے
وہ دوست، شہادت کا ملا مرتبہ جن کو
جنت کا انہیں رب نے بھی مہمان کیا ہے
کچھ بعد میں آ کے بھی ہوئے سرخرو پہلے
یوں جان کو اس راہ قربان کیا ہے

0
6