نورِ حق سے ساری خلقت اس طرح سے ضوفشاں ہے
ہر مکاں میں جلوۂ حق، ہر طرف اک لا مکاں ہے
اہلِ صورت تک رہے ہیں رنگِ فانی دہرِ دوں کا
دیدۂ دل جانتا ہے عشقِ حق ہی جاوداں ہے
​قطرہ گر گم ہو ندی میں بحرِ قلزم بن کے ابھرے
مٹ کے رہنا خود سے اپنی زندگی کا رازداں ہے
​ساقیا دے جامِ وحدت مے کشوں کو دم بہ دم تو
جس کی لذت سے ہمارا سینہ اب اک گلستاں ہے
​روشنی جب حسنِ مطلق کی عیاں ہو سر بہ سر اب
ہر خس و خاشاکِ عالم رشکِ صدہا کہکشاں ہے
​عشقِ حق سے مٹ گیا جو اس جہاں میں دل لگا کر
با خدا وہ اصلِ ہستی میں سما کر بے نشاں ہے
راہِ حق میں سالکا جب خود کو تو نے کھو دیا ہے
تیرے دم سے ہی ہویدا شانِ ربِّ کُن فکاں ہے

0
1