| کر رہے تھے ایک دن یوں ہی وہ اعلان جی |
| کیوں کہیں ہیں آپ ان کو مری ہیں جان جی |
| عشق کرنا ہے کھٹن کہتے ہیں غالب میاں |
| پھر بھی کرتے کیوں بھلا آپ یہ سامان جی |
| میر کا کہنا ہے یہ عشق ہے نادم غذا |
| کر رہے ہیں پھر یہ کیوں مرنے کا اعلان جی |
| کچھ نہیں ملنا یہاں کریے ان سے معذرت |
| آپ بھی کچھ جان لیں حضرتِ فیضان جی |
| ہم بھی اب تو خیر سے حضرتِ انسان جی |
| جان لیں یہ آپ بھی حضرتِ صفیان جی |
| ایک شب تھے کہہ رہے کون ہے ہم پر فدا |
| ہم نے یکجا کہہ دیا آپ پر قربان جی |
| پہلے تو وہ چپ رہے پھر کِھلے گل کی طرح |
| اس سے ظاہر ہو گیا کچھ تو ہے امکان جی |
| ہم ہوئے گویا نہیں کوئی بھی ہمرا یہاں |
| رکھ لیں نظریں ہم پہ آپ آپ کا احسان جی |
| ان کا کہنا تھا لکھو غزلیں اور نظمیں تبھی |
| مان لیں گے ہم تمہیں کتنا ہے میلان جی |
| ان کا کہنا تھا مگر لکھنے بیٹھے جب غزل |
| تب ہی حاضر ہو گئے حضرتِ ریان جی |
| خوب روئے رو لیے پھر یہ گویا ہو لیے |
| ہم ہیں آئے کرلیں اب پینے کا سامان جی |
| دن تھا گزرا رات آئی یوں پھر ہم سو گئے |
| ان کا رستے رہ گیا شعر کا دیوان جی |
| دن کو حاضر جب ہوئے ان کے ہم دربار میں |
| ان کا لہجہ تھا کہ وہ آئے ہیں فیضان جی |
| ان کی محفل میں مگر منھ سے کچھ گویا ہوا |
| کچھ نہ ہم سے بن سکا شعر اور دیوان جی |
| طیش ان کو آ گیا من تھا ہمرا ڈر چکا |
| پھر نہ پوچھو جو ہوئی ہمری عز و شان جی |
| ایسے میں آئے وہاں حضرتِ صفیان جی |
| کیا بناپھر کیا کہا حضرتِ بےجان جی |
| میر و غالب تو رہے آپ بھی رونے لگے |
| ہم نہ کہتے تھے کبھی عشق ہے نقصان جی |
| آنکھیں ہمری لال تھیں ہم ہوئے گویا جناب |
| ہم تو ہیں دنیا میں بس دو دِنی مہمان جی |
| ان کا ہمرا فیصلہ ہم کریں جو بھی کریں |
| آپ نے پکڑا ہے کیوں عشق کا میزان جی |
| کیا چھپے رستم ہیں یہ فیضان جی |
| بغل میں چھپائے پھرتے ہیں ریان، سفیان جی |
معلومات