کس نے ہمیشہ رہنا ہے بھائی زمین پر
بنتی نہیں ہماری لڑائی زمین پر
رضوان بابِ خلد کھُلا رہ گیا ہے کیا؟
اک حور دے رہی ہے دکھائی زمین پر
سنتا ہےسب گمان کے پردوں کے پار سے
ہوتی ہے اس کی نغمہ سرائی زمین پر
اڑتا تھا آسمان پہ میرا بہت مزاج
تقدیر کھینچ کر اسے لائی زمین پر
خالق ہے اپنے راز سے آگاہ، کس لیے
مخلوق دے رہی ہے دُہائی زمین پر
سب کچھ اسی پہ چھوڑو، بچھاؤ سکون سے
تکیہ کرو فلک پہ ، چٹائی زمین پر
چھائی ہوئی ہے مردنی کیسی چہار سمت
تہمت کیا آسماں نے لگائی زمین پر؟
جوتے اتار کر اسے شاداب کیجیے
جمنے لگی ہے دیکھیے کائی زمین پر
آسیؔ خدا کی مرضی سے چلتی ہے کائنات
مطلب کوئی نہیں ہے برائی زمین پر؟
قمرآسیؔ

1