شمعِ الفت کو گام گام کریں
آؤ نفرت کا اختتام کریں
بھائی چارہ سکھاتا ہے مذہب
کیوں نہ مذہب کا احترام کریں
بھول کر ہم سبھی گلے شکوے
ایک دوجے سے پھر کلام کریں
کلفتِ غم ، کو بھول جائیں اور
ایک دوجے کے نام ، جام کریں
آپ کو دے دیں آبِ زم زم ہم
گنگا جل گر ہمارے نام کریں
دعوتِ عشق دینی ہے ، ناصح
ایک محفل کا اہتمام کریں
جب ملیں آپ ، اپنے رہؔبر سے
سب سے پہلے اسے سلام کریں

0
5