یار دل سے کلام کرتے ہیں
ان کو سن سن کے ہم مچلتے ہیں
دل کو پیغامِ یار ملتے ہیں
سن کے ہم جن کو شعر کہتے ہیں
دل کے گُل سے، پَیَامِ یارِ دل
تتلیوں کی طرح نکلتے ہیں
دل مُعطّر ہے ان کی باتوں سے
لفظ جتنے ہیں سب مہکتے ہیں
اے ذکیؔ سن کے یار کی باتیں
سنگ دل، جتنے ہیں، پگھلتے ہیں

0
2