دل میں برسوں سے ہے سنّاٹا ، وہی سنتا رہا
شہر بدلا، آدمی بدلے، نہ تنہا پن گیا
رات نے جب چاند کی پیشانی پر بوسہ دیا
درد بھی آواز دے کر زخم سے گویا ہوا
وہ جو اپنے نام سے بھی اجنبی لگنے لگا
آئنے سے روز مل کر بھی نہ اپنے گھر گیا
ہم نے خوشبو کی طرح ہر سمت خود کو بانٹ کر
خار زارِ دل کا دُکھ ہے اپنے سینے میں رکھا
عشق نے سکھلا دیا خاموش رہنے کا ہنر
ورنہ ہر اک بات پر دل بےسبب روتا رہا
عمر بھر دریا کی خواہش ریت میں پلتی رہی
پیاس کا رشتہ مرے ہونٹوں سے یوں گہرا ہوا
ایک جگنو کی چمک کافی تھی شب کے واسطے
میں مگر سورج جگانے کی خطا کرتا رہا
شعر کہنا بھی ہے طارِقؔ اک عبادت کا سماں
لفظ کاغذ پر نہیں، روحوں میں بھی رچ بس گیا

0
6