| پھنسے تو دیکھۓ جا کر کہاں دامِ اسیری میں |
| شباب آیا بھی جو ہم پر تو آیا صبحِ پیری میں |
| نہ ہی صحرا کوئی ہم سر جنوں جولاں کا ہے میرے |
| نہ ہی ثانی کوئی غم کا مرے وسعت پذیری میں |
| نہ ہی نالہ رسا میرا کبھی کوئی ہوا اب تک |
| نہ ہی کوئی اثر ہے میری آہِ زمہریری میں |
| کبھی تو کام لے بندہ ذرا موقع پرستی سے |
| رہے کیوں مبتلا کوئی سدا روشن ضمیری میں |
| مروت اور لحاظ اپنے اگر آڑے نہیں آئیں |
| نہیں ہیں کم کسی سے ہم بھی آخر حرف گیری میں |
| نہیں اس بزم میں کوئی کمی ہے کاسہ لیسوں کی |
| ادھر تو ایک سے ہے ایک بڑھ کر چمچہ گیری میں |
| کیا پامال کتنے ہی گلوں کو وقت نے لیکن |
| کمی آئی نہ تیرے حسن کی اس دل پذیری میں |
| وہاں زر و جواہر ہیں تو یاں گنجِ قناعت ہے |
| جو وہ ہے خوش امیری میں تو میں ہوں خوش فقیری میں |
| سدا حرکت میں رہتا ہے نہیں دل بے وجہ یوں ہی |
| کہ ہے ست زندگانی کا فقط حرکت پذیری میں |
| ہزاروں ہیں زبانیں پر محبت کی زباں اپنی |
| کروں میں بات اردو میں وہ بولیں کاشمیری میں |
| ملی اتنی کہاں مہلت ذرا ہم جستجو کرتے |
| کٹی اپنی تو ساری عمر ہی قادر اسیری میں |
معلومات