کبھی پُوری ہوگی جو حسرت تمہاری
بلندی پہ جائے گی قسمت تمہاری
شرارے عدو کے بھڑکنے سے ہی تو
یقیں کی بڑھیگی حرارت تمہاری
صلہ رحمی کے جزبے پنپے اگر تو
ہٹیگی بھی دھیرے کدورت تمہاری
عمل سے بھری زندگی جب یہ ہوگی
اثر پائے گی پھر نصیحت تمہاری
رعیت کی ہو فکر لازم بھی سب کو
تبھی رنگ لائے عبادت تمہاری
رہیں دیتے صدقہ جو اعلانیہ بھی
جھلکنے لگیں پھر سخاوت تمہاری
بسی رہتی سوغات یادوں کی ناصؔر
تحائف سے بڑھتی عقیدت تمہاری

0
43