آرائشِ مکاں میں مکیں کو بھی دیکھنا
کعبے کو دیکھتے ہو جبیں کو بھی دیکھنا
رو بہ زوال ہیں سبھی یہ عظمتیں یہ شان
جو آسماں کو دیکھو زمیں کو بھی دیکھنا
گرچہ مسرتوں کے ہیں سامان ہر طرف
اطراف میں تو قلبِ حزیں کو بھی دیکھنا
رہتے مگن ہو خود پہ جو تم التفات میں
اندر مقیم گوشہ نشیں کو بھی دیکھنا

0
1