ہوتی ہے سحر دھیرے دھیرے
ملتا ہے ثَمر دھیرے دھیرے
امبر کی کشادہ بانہوں میں
سوتا ہے قمر دھیرے دھیرے
کِینہ دلوں میں رکھنے والے
کرتے ہیں مَکر دھیرے دھیرے
اُمید کا پنچھی صحرا میں
مرتا ہے مگر دھیرے دھیرے
محبوب کی فُرقت میں آنکھیں
ہو جاتیں ہیں تر دھیرے دھیرے
حسرت کے بھڑکتے جنگل میں
جلتا ہے بَشر دھیرے دھیرے

0
4