اگر خود سے ہی نِسبت ہے
کسی کی کیا ضرورت ہے
اِسی خاطر میں تنہا ہوں
کہ آزادی سے الفت ہے
تری بیعت کروں کیسے
مرے خوں میں بغاوت ہے
میں حق گوئی کا خوگر ہوں
یہی میری عبادت ہے
بےاخلاقوں کی محفل میں
خموشی میری عزت ہے
تُو دل میں اُترےتو جانے
کہ غم میں کتنی وسعت ہے
مرا سرمایۂ ہستی
مری فولادی ہمت ہے

0
22