جب ترے لہجے کی شبنم نے تمازت اوڑھ لی
میں نے خاموشی سے پھر تنہا مسافت اوڑھ لی
بے حسوں کی بھیڑ میں کیا بات کرتا درد کی
اس لیے میں نے بھی چہرے پر متانت اوڑھ لی
ہار کر بھی عشق میں خود دار رہنا شرط تھا
دل کے زخموں نے تبسم کی شباہت اوڑھ لی
اس کے جانے کا بھلا کس نے منایا سوگ تھا
چشمِ نم روئی نہیں، دل نے قیامت اوڑھ لی
ہاتھ میں خنجر چھپائے مسکراتے لوگ تھے
اس لیے ملتے ہوئے میں نے مروت اوڑھ لی
اس کے حصے کی خطائیں سب مرے سر آ گئیں
مسکرا کر میں نے چپکے سے ملامت اوڑھ لی
جانتا تھا میں کہ جھوٹے ہیں ترے دعوے مگر
میں نے لفظوں پر ہمیشہ کی صداقت اوڑھ لی

36