| وہی زخموں کا بانی تھا وہی مرہم لگاتا تھا |
| عجب وہ اپنے ہونے کا یقیں دل کو دلاتا تھا |
| وہی الزام دیتا تھا وہی معصوم بنتا تھا |
| عجب کردار تھا اس کا عجب پردے لگاتا تھا |
| وہی ہر درد کا باعث وہی آرامِ جاں ٹھہرا |
| وہی نزدیک رہ کر بھی مسافت چھوڑ جاتا تھا |
| وہی ہر درد کا قصہ مرے لب پر سجاتا تھا |
| وہی پھر اس کہانی کو زمانے سے چھپاتا تھا |
| وہی خاموش نظروں سے کئی باتیں سناتا تھا |
| وہی لفظوں کی محفل میں مگر سب بھول جاتا تھا |
| وہی ٹوٹا ہوا دل جوڑتا تو تھا محبت سے |
| وہی اک لمحۂ غصہ میں دل کو توڑ جاتا تھا |
| وہی قسمت کا لکھا تھا وہی تقدیر تھا ساگر |
| مگر ہر موڑ پر آ کر وہ تنہا چھوڑ جاتا تھا |
معلومات