| کوچۂ عشق میں طلاب کہاں آتے ہیں |
| بے سر و ساماں بے اسباب کہاں آتے ہیں |
| لمحہ لمحہ ہی رہے خوفِ جدائی سر پر |
| عشق میں دور بھی نایاب کہاں آتے ہیں |
| وہ جہاں اور تھا ہوتی تھی رفاقت دل سے |
| اب برے وقت میں احباب کہاں آتے ہیں |
| ایک ہی شخص پہ کر لیں گے قناعت ہم کو |
| سب کو خوش رکھنے کے آداب کہاں آتے ہیں |
| دل شکستہ ہیں تو خود کو بھی سنبھالیں خود ہی |
| رات چھائی ہو تو مہتاب کہاں آتے ہیں |
| آنکھ لگتی ہے مگر کیف نہیں پہلے سا |
| اب تو تیرے بھی ہمیں خواب کہاں آتے ہیں |
| کوچۂ یار کی جانب بہ خوشی جاتے ہیں پر |
| جو پلٹتے ہیں وہ شاداب کہاں آتے ہیں |
| تشنہ لب تھے وہ مگر مے سے گریزاں تھے جلال |
| میکدے میں بھلا توّاب کہاں آتے ہیں |
معلومات