یہ جان مسلمان کہیں چوک ہوئی ہے
دکھ حالتِ ایمان، کہیں چوک ہوئی ہے
تھا عدل بھی تلوار، امانت بھی دیانت
وہ شانِ نگہبان کہیں چوک ہوئی ہے
تھے علم سے تہذیب کے مینار کے چرچے
اب فخر کا عنوان کہیں چوک ہوئی ہے
قرآن تھا کردار جو آئینہ ہمارا
اب درس کا سامان کہیں چوک ہوئی ہے
وہ ربطِ مساوات اخوت کی حرارت
ان سب کا نگہبان کہیں چوک ہوئی ہے
تھی سچ کی صدا لب پہ، عمل ہاتھ میں روشن
اب جرأتِ اعلان کہیں چوک ہوئی ہے
ہم خود ہی ہوئے دور چراغوں کی ضیا سے
پھر کہتے ہیں امکان کہیں چوک ہوئی ہے
اک درد ہے دل میں کہ جگا دے دلِ امت
شاید یہی درمان: کہیں چوک ہوئی ہے
ارشدؔ یہ زمانہ بھی اشارہ یہی دیتا
ہم میں بھی مسلمان کہیں چوک ہوئی ہے
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
1
5
اُردو کے معروف شاعر عمران پرتاب گڑھی سے معذرت کیساتھ انہی کی ردیف پر لکھا کیا دور حاضر پر کلام

0