پھر جو تیر مجھ کو لگا نہیں
کوئی دوست شاید رہا نہیں
جیسے دشمنوں کا یہ شہر ہو
جس میں دوستوں کا پتہ نہیں
مانگتے ہو اِس وقت خونِ دل
جب رگوں میں کچھ بھی بچا نہیں
حسرتیں رہیں یوں کہ عمر بھر
حسبِ آرزو کچھ ملا نہیں
مجھ کو ڈوبنا تھا یہیں بھنور
مجھ کو تم سے کوئی گلہ نہیں
میرے یار میرا تو غم نہ کر
میرے دکھ کی کوئی دوا نہیں
دیکھ میں بھی کتنا عجیب ہوں
اجڑا ہوں مگر میں گرا نہیں

0
4