| ہوا نے پھر سے مرا حوصلہ جگایا ہے |
| چراغ رات کے سینے میں مسکرایا ہے |
| وہ ایک شخص جو خاموشیوں کا دریا تھا |
| اسی نے زندگی کا فلسفہ بتایا ہے |
| میں اپنی ذات کے صحرا سے جب بھی لوٹا ہوں |
| کوئی گلاب مرے ساتھ ساتھ آیا ہے |
| کسی کے درد کو تقسیم کر کے دیکھا تو |
| وجود میرا عجب نور میں نہایا ہے |
| غموں نے مجھ کو جھکایا کسی قدر لیکن |
| ضمیر نے تو ہمیشہ ہی سر اُٹھایا ہے |
| میں اپنی ہار کو قسمت نہیں سمجھ بیٹھا |
| یقیں ہے وقت نے اک دن مرا بنایا ہے |
| کسی کے لب پہ جو آئی ہنسی مرے دم سے |
| سکوں نے دل میں مرے گھر نیا بسایا ہے |
| یہ زندگی بھی عجب امتحاں ہوئی ثابت |
| جو مسکرا کے چلا ہے وہ جیت پایا ہے |
| تُو اپنے لہجے کی خوشبو بچا کے رکھ طارِق |
| زمانہ بدلا ہے جب رنگ اور لایا ہے |
معلومات