| پوچھ مجھ سے کبھی گِلہ کیا ہے |
| عشق کر کے مجھے ملا کیا ہے |
| اب کسی پر یقیں نہیں کرتا |
| جانتا ہوں میں اب دغا کیا ہے |
| تیرے جانے کے بعد سوچا ہے |
| میرے حصے میں اب رہا کیا ہے |
| اب بھروسہ نہیں محبت پر |
| جانتے ہو نہ تم، وجہ کیا ہے |
| درد خاموشیوں نے کہہ ڈالا |
| اب بھلا لفظوں میں رکھا کیا ہے |
| اب اسے بھول جاؤ تم ساگر |
| عشق میں آخر اب بچا کیا ہے |
| © ساگر حیدر عباسی |
معلومات