| ترے بعد خود کو گنوایا نہیں ہے |
| تماشا جنوں کا بنایا نہیں ہے |
| تعلق کی ڈوری ابھی تک سلامت |
| بچھڑ کر بھی تم کو بھلایا نہیں ہے |
| گزرتے دنوں نے کئی نقش دھوئے |
| ترا نام دل سے مٹایا نہیں ہے |
| محبت کی آتش میں جلتے رہے ہیں |
| کسی کا نشیمن جلایا نہیں ہے |
| مسافر ہیں ہم تو سفر ہی وطن ہے |
| کہیں مستقل گھر بسایا نہیں ہے |
| فقط عشق ہی تو کمائی ہے اپنی |
| کوئی اور رتبہ کمایا نہیں ہے |
| متاعِ ہنر کو بچا کر رکھا ہے |
| سرِ راہ اس کو لٹایا نہیں ہے |
| ہوائے حوادث سے لڑتے رہے ہم |
| چراغِ بغاوت بجھایا نہیں ہے |
| لہو سے لکھی ہے غزل کی عبارت |
| سرِ عام خنجر دکھایا نہیں ہے |
| جبینِ عقیدت فقط اس کے در پر |
| کسی بت پہ سر کو جھکایا نہیں ہے |
| گرایا ہے ہم کو رفیقوں نے اپنے |
| حریفوں نے اتنا ستایا نہیں ہے |
| طبیعت میں اپنی قلندر کی خو ہے |
| لہو میں تکبر ملایا نہیں ہے |
| حدوں سے گزرنے کی خواہش تھی دل کو |
| قدم ہم نے آگے بڑھایا نہیں ہے |
معلومات