کاسہ لیسوں کے سروں پر تاج دیکھے
تخت پر ہم نے مداری راج دیکھے
ہاتھوں سے جن کے ہوئے مسند نشیں لوگ
ہاتھوں سے اُن ہی کے وہ تاراج دیکھے
آستینوں میں پلے سانپوں سے ہم نے
دودھ پی کر زہر کے اخراج دیکھے
جن کی خاطر وار ہر سینے لیا وہ
پیٹھ پیچھے تیر اٹھائے آج دیکھے
بھوک سے مرتا رہا مزدور کا پوت
سیٹھ ہوتے شہر کے الحاج دیکھے

0